<?xml version="1.0"?>
<rss version="2.0">
   <channel>
      <title>شمالی علاقہ جات by Batool Raza Zaidi/TCHR/BGJCK-II</title>
      <link>https://padlet.com/tchr53829/cc1nteztx4r4nt12</link>
      <description>معلومات</description>
      <language>en-us</language>
      <pubDate>2020-10-18 18:46:08 UTC</pubDate>
      <lastBuildDate>2020-10-18 19:07:15 UTC</lastBuildDate>
      <webMaster>hello@padlet.com</webMaster>
      <image>
         <url></url>
      </image>
      <item>
         <title>جماعت میں ایک دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔</title>
         <author>tchr53829</author>
         <link>https://padlet.com/tchr53829/cc1nteztx4r4nt12/wish/839129993</link>
         <description><![CDATA[<div>آج اسد اور احمد کی جماعت میں تین نئے بچے موجود تھے ۔ استانی نے بتایا کہ یہ ان کے نئے ساتھی ہیں  جو شمالی علاقے کے مختلف شہروں سے آئے  ہیں۔ جیسے ہی  لنچ بریک کی  گھنٹی بجی سارے بچے ان تینوں کے گرد جمع ہو گئے ۔ اسد سے پوچھا کہ وہ کس شہر سے آئے ہیں۔ ولی نے بتا یا وہ   بہت ہی خوبصورت شہر کالام سے آیا ہے جسے پاکستان کا سوئیزرلینڈ بھی کہا جاتا ہے۔<br><br></div><div>گل  نے بتایا کہ وہ بلتستان کے سب سے بڑے شہر اسکردو سے آیا ہے۔ جبکہ  پلوشہ چترال سے آئی تھی جہاں کا مشہور کھیل پولو ہے۔ یہ سن کے احمد کہنے لگا کہ ارے واہ تم  لوگ ہمیں کچھ اور بتاؤ   تم لوگ تو  اتنے اچھے  تفریحی مقامات پر  رہتے ہو ئے قدرتی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوتے ہو۔ پلوشہ  فوراً بولی کہ ارے وہاں کا موسم بہت شدید ہے۔ اتنی برف باری ہوتی   ہے ہمارا شہر مہینوں  ملک کے دوسرے حصوں سے کٹا رہتا ہے ۔ ولی  اور گل نے  اس کی ہاں میں ہاں ملائی کہ ان کے شہروں کا موسم شدید سرد اور خشک  ہے۔ مگر ولی نے کہا  کالام سرد تو ہے لیکن بہت حسین بھی اشو جنگل، شاہی گراؤنڈ مہدڈنڈ اور کنڈول جھیل جیسے حسین  مقامات بھی کالام میں ہیں۔ ارے ایسے تو چترال میں بھی  بمبوریت، رمبور اور کیلاش جیسی حسین وادیوں سے ساتھ ترچ میر اور نوشق  کی چوٹیوں  جیسے مقامات موجود ہیں۔ پلوشہ نے جلدی سے کہا۔ گل نے کہا میرے شہر اسکردو کے خوبصورت مقامات میں شنگریلا، <a href="https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%AF%D9%BE%D8%A7%D8%B1%DB%81_%D8%AC%DA%BE%DB%8C%D9%84">سدپارہ جھیل</a> اور کت پناہ جھیل وغیرہ شامل ہیں۔ ان تینوں کی باتوں سے سب بچوں کو معلوم ہوا کہ مزے دار خوبانی، انار آلوبخارے، چیری کے ساتھ ساتھ  چلغوزے شمالی علاقہ جات کے شہروں کی خاص پیداوار ہیں۔ اسد   نے کہا ہمارے شہر کراچی کی آبادی تو کروڑوں میں  ہے ۔ تم لوگوں کے شہروں  میں تو کم آبادی ہو گی ناں! ولی نے  اثبات میں سر ہلایا اور بتایا کہ   کالام کی  آبادی تو صرف ۲۳۱۷۰ ہے۔گل نے کہا کراچی کی آبادی کا مقابلہ تو پاکستان کے کسی دوسرے شہر سے نہیں ہو سکتا ۔ اسکردو تو ویسے  ہی صرف ستتر مربع کلو میڑ پر واقع ہے۔ کراچی سے بہت چھوٹا۔ پلوشہ نے بتایا کہ  چترال کا رقبہ بھی بہت کم ہے  صرف ستاون مربع کلو میٹر ہے۔ جماعت کی ایک بچی  زارا نے پوچھا ،''  تم تینوں کس طرح  کراچی پہنچے۔" ہم  لوگ چاہتےتو  گاڑی سے بھی آ سکتے تھے مگر آئے ہم ہوائی جہاز سے ہیں۔" گل نے جواب دیا۔ ولی نے اپنے سب ہم جماعتوں کو شمالی علاقاجات آنے کی دعوت دی  اور کہا کہ ان کے علاقوں کے لوگ بہت  مہمان نواز اور محبت کرنے والے بہادر لوگ ہیں۔ زارا نے کہا " ہاں جب ہم لوگ    چترال گئے تھے تو وہاں کے لوگوں نے انہیں کشیدہ کاری کے کپڑے اور شال تحفہ میں دی تھی۔ پلوشہ بولی  ،" وہاں کے لوگ تو  لکڑی کے برتن  اور یہ چیزیں  اپنے  گھروں میں تیار کرتے ہیں۔ ولی نے بتایا کہ ان علاقوں کا بہت قدیم  ثقافتی اور تاریخٰ پس منظر ہے۔ وہاں جا کر سب کو بہت مزا آئے گا۔ ابھی باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ بریک ختم ہونے کی گھنٹی بج گئی اور سب بچے اپنی جگہوں پر چلے گئے۔<br><br></div>]]></description>
         <enclosure url="" />
         <pubDate>2020-10-18 19:06:06 UTC</pubDate>
         <guid>https://padlet.com/tchr53829/cc1nteztx4r4nt12/wish/839129993</guid>
      </item>
   </channel>
</rss>
